عدم اعتماد اور سیاسی اغلاط ۔۔۔ تحریر: شیر محمد اعوان

حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن چار سال منہ میں چوسنی لیے بیٹھی رہی۔لوگوں پر مہنگائی ،بیروزگاری کا عذاب آئے دن بڑھتا گیا۔ملکی معیشت نیچے اور قرض اوپر جاتا گیا لیکن اب جب تھوڑا وقت رہ گیا تو عدم اعتماد لا کر اپوزیشن نے "کبے کو لات ” مار کر سیدھا کرنے والا کام کیا۔عمران خان صاحب سے کیا غلطیاں ہوئی ان پر بات سے پہلے اپوزیشن سے متعلق چند باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔حکومت کی طرح اپوزیشن بھی مکس اچار ہے۔اور فی الوقت موجود معلومات کا بہاو اور انکے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس سیاسی دنگل میں سب سے زیادہ فائدہ پی پی کو ہو گا۔اور خوشی کے شادیانے بجانے والی ن لیگ سب سے زیادہ نقصان اٹھائے گی۔خاص طور پر اگر ق لیگ کو پنجاب میں وزارت اعلی ملی تو پھر اس کا ازالہ کسی طور ممکن نہیں ہو گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس صورت میں پی پی کو مزید سیاسی فائدہ ہو گا اور یوں آئندہ قومی الیکشن میں پی پی وفاق پر حکمرانی حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہو گی۔یوں زرداری صاحب پھر سے سیاسی دنگل کے چیمپئن کہلائے جائیں گے۔کیونکہ سیٹوں کے لحاظ سے جو اہمیت ق لیگ کی پنجاب میں ہے وہی ایم کیو ایم کی سندھ میں ہے۔لیکن وزارت عظمی کی کرسی کھینچنے کیلئے ن لیگ کو کچھ کھونے کا مشورہ دیا جا رہا ہے جبکہ کچھ نہ کھو کر فائدہ صرف پی پی کو ہو گا۔جہاں تک فضل الرحمن صاحب کی بات ہے تو وہ سڑک کو گرم رکھنے کی صلاحیت کے باعث عمران خان صاحب کی طرح خطرناک ہیں۔قوی امکان ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہو نہ ہو حکومت کسی کی بھی بنے وہ اگلی بار لازمی اس کا حصہ ہونگے۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ تاریخی طور پر مارشل لاء کے بعد پی پی ہی برسراقتدار آئی ۔اور فی الوقت ملک میں نیم مارشلائی کیفیت ہی ہے۔اگر کلی طور پر اپوزیشن کی بے وقت راگنی کا نقصان دیکھا جائے تو وہ بھی حیران کن ہے۔لوگ دن بدن بڑھتی مالی مشکلات کی وجہ سے حکومت پر نا صرف تنقید کر رہے تھے بلکہ اسے عذاب گردانتے ہوئے روز نجات کیلیے دعائیں مانگ رہے تھے۔حکومت کی طفل تسلیاں، اعداو شمار کی خوشخبریاں اور امید قائم رکھنے کی تدبیریں بے سود ہوبرہی تھیں۔اگر حکومت اپنی مدت مکمل کرتی تو ہو سکتا ہے لمبا عرصہ دوبارہ اپنی جگہ بنانے کیلیے تگ ودو کرنی پڑتی۔لیکن اپوزیشن کے اس عمل سے پی ٹی آئی کھل کے میدان میں آئی اور جذباتی قوم ساری کسمپرسی بھول کے دوبارہ ساتھ جڑنا شروع ہو گئی۔یوں تحریک کا نتیجہ جو بھی ہو اگلے الیکشن میں خان صاحب پھر سے بھاو تاو کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ بڑی سیاسی شخصیت کے طور پر کم ہوتی مقبولیت کو بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔اسطرح جو لوگ یہ کہتے تھے کہ انہیں سیاست نہیں آتی وہ غلط ثابت ہوئے۔
فائدہ نقصان سے قطع نظر وننگ ہارسز کو لینا اصولی غلطی تھی، ان کے سیاہ سفید پر چپ سادھ کر احتساب کو یکطرفہ بنانا دوسری غلطی تھی، وعدوں کی تکمیل کیلیے ایک انچ نہ بڑھنا تیسری غلطی، سارا فوکس اچھا کرنے کی بجائے اچھا دکھانے پر رکھنا چوتھی غللطی، زمینی حقائق کے برعکس معیشت کو اعدادو شمار کے زریعے بہتر تصور کرنا بھی غلطی۔لیکن یہ سب چھوٹی اغلاط ہیں۔اصل غلطی بھائی لوگوں کا آلہ کار بننا، ان پر تکیہ کرنا اور انکے متعلق سب جانتے ہوئے انکے بارے اپنے طویل بیانیہ اور سوچ کے مخالف سمت تیرنے کا سمجھوتا اصل غلطی ہے۔اس کا خمیازہ یہ نہیں کہ کرسی چھن جائے گی بچ بھی سکتی ہے لیکن اصل واردات جس پر نظر نہیں لوگوں کی وہ یہ ہے کہ امید کا "کے ٹو” ٹوٹ گیا۔اور لوگوں کو باور کروایا گیا کہ ہر سیاستدان نا اہل اور کرپٹ ہے۔حالانکہ ایسا نہیں غلطیاں کوتاہیاں ہیں لیکن اصل وجہ وہ نظام ہے جو ایسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں کو مفلوج رکھنے کیلیے دہائیوں سے بنایا ہوا ہے۔جس میں جی حضوری کے علاوہ کوئی سوچ ابھرنے کی دیر ہے پھر نہ صرف دھڑن تختہ ہوتا ہے بلکہ زندگی عذاب بن جاتی ہے اور ہر پانچ دس سال بعد لوگوں کو تھوڑے سچ کے ساتھ بہت سارا جھوٹ ملا کر بتایا جاتا ہے کہ ہر سیاستدان ملک کی تباہی کا سبب ہے۔وقتی طور پر وہی بچتا وہی ہے جو جی حضوری کر رہا ہوتا ہے یا اس نظام کا حصہ ہوتا ہے۔لیکن وہ بھی اس نظام کا نشانہ ضرور بنتا ہے۔سیاستدان کئی سال وقتی فائدہ کیلئے استعمال ہونے کے بعد یہ سب سمجھتا ہے۔عمران خان شاید وہ واحد سیاستدان ہیں جو اس نظام کا حصہ بننے سے پہلے نا صرف یہ سب جانتے تھے بلکہ برملا اسکا اظہار کرتے تھے (جس کی آڈیو ویڈیو ثبوت ہر کسی کے سامنے ہیں ) لیکن وہ نا صرف اس نظام کا حصہ بنے بلکہ استعمال ہونے میں شاید سابقہ استعمال شدہ سیاستدانوں کے ریکارڈ توڑ دیے۔
یہاں حکومت اور اپوزیشن کی کلی غلطی کا ذکر بھی ضروری ہے۔ایک تو ایک دوسرے کو زیر کرنے اور عوام کو اپنی طرف مائل کرنے کیلیے بیہودہ گفتگو اور بداخلاقی، ایک دوسرے کا مذاق اڑانا اور الزام تراشی غلط روایت ہے جو کئی دہائیاں انکا پیچھا کرتی رہے گی۔دوسری غلطی حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ہی جگہ اپنے ورکرز کو بلاناہے۔جو ناصرف آئینی قدم کو زمین بوس کرے گا بلکہ انتشار کی صورت میں کسی بڑے المیہ کاسبب ہو سکتا ہے۔ایک. بات جو ایسٹیبلشمنٹ کو یاد رکھنی وہ ہے "میں حکومت سے نکل کر زیادہ خطرناک ہونگا”.کیونکہ 2011 سے پہلے والا عمران خان اکیلا تھا اب وہ آپکے زیر سایہ کام کر کے مزید جان چکے ہے اور اسکے ساتھ سوشل میڈیا کی وہ ساری فوج بھی ہے جو فی الحال دوسروں کو غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں