حکومت تعلیمی ادارے کھول دے ، ورنہ بھرپور احتجاجی تحریک چلائیں گے، پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن

راولپنڈی ( نمائندہ خصوصی) حکومت کورونا کی آڑ میں شعبہ تعلیم کو تباہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، شعبہ تعلیم کو آسان ہدف سمجھنے والے نااہل حکمران ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں، ملکی ترقی کا انحصار تعلیم پر ہے، تعلیم کی تباہی سے ترقی کا کوئی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ،حکومت نے حوش کے ناخن نہ لیے تو بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی جو سکول اوپننگ تک جاری رہے گی، ان خیالات کا اظہار آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر راجہ محمد الیاس کیانی ،مرکزی سیکرٹری جنرل محمد اشرف ہراج ،صدر کالجز ونگ جاوید اقبال راجہ، ڈویژنل صدر عرفان مظفر کیانی ،نائب صدر سردار گل زبیر ،صدر ضلع راولپنڈی ملک حفیظ الرحمان ،میڈم ارم زاہد ،میڈم مسرت کامران ،میڈم مصباح حسن،چوہدری ارشد ،شکور چشتی ،نے احتجاجی تحریک کے سلسلے میں مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

قائدین نے کہا کہ حکومت کے وفاقی اور صوبائی وزراء جو گونگے اور بہرے انکو فوری طور پر وزارتوں سے الگ کیا کیونکہ نہ ان کو سمجھ ہے نہ انکی زبان کام کرتی ہے NCOC کے اجلاس سے قبل تعلیمی ادارے بند نہ کرنے کی بات کرتے ہیں اور اجلاس میں بغیر کوئی بات کئے تعلیمی ادارے بند کرنے پر رضامند ہو جاتے ہیں، آپسکا سمجھتی ہے کہ وزراء تعلیم شعبہ تعلیم کے لئے کوئی کام نہیں کر رہے، ہم وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وزراء تعلیم کی تنخواہیں واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائی جائے،وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس، آرمی چیف، سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا جائے، کورونا وباء کے دوران 25 ہزار سے زائد تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں، 25 لاکھ سے زائد بچے آوٹ آف سکول ہو چکے ہیں، والدین بچوں کے حوالے سے سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

متعلقہ خبریں