ایم ڈی کیٹ کا امتحان لینے کے لیے اپنی من پسند فرم کو ٹھیکہ دینے کا انکشاف

لاہور(سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک اور میگا سکینڈل سامنے اگیا۔پی ایم سی کے نائب صدر علی رضا کا ایم ڈی کیٹ کا امتحان لینے کے لیے اپنی من پسند فرم کو ٹھیکہ دینے کا انکشاف ہوا ہے ۔ ایم ڈی کیٹ کا امتحان دینے والے امیدواروں سے ایک ارب 13 کروڑ سے زائد ریونیو اکٹھا کیا جائے گا ۔حیران کن طور پر پی ایم سی نے دس مئی تک نجی فرموں سے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں لیکن جس فرم کو ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ انعقاد کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے مذکورہ فرم 21 مئی کو رجسٹرڈ ہوئی جس کا ایس ای سی پی نمبر 0175598ہے، حیران کن طور پر مذکورہ نجی فرم ٹپس (TEPS)نے پاکستان میڈیکل کیمشن سے امتحان کے انعقاد کے لیے 11کروڑ 55 لاکھ ایڈوانس مانگ لیے اور ایڈوانس انکم ٹیکس کی کٹوتی نہ کرنے درخواست بھی کی ہے۔معاہدہ کے مطابق نجی فرم ایم ڈی کیٹ سے وصول ہونے والی فیس کی مد میں ملنے والے شئیر سے ایڈوانس رقم کی کٹوتی کروائے گی ۔ڈاکٹرز کی تنظیموں نے نیب سے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کردیا ۔
تفصیلات کے مطابق نائب صدر پی ایم سی علی رضا کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ لینے کے لیے اپنی من پسند فرم کو ٹھیکہ دینے کا انکشاف جوکہ صرف ایک ماہ پہلے بنائی گئی ۔پی ایم سی نے میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے دس مئی تک درخواستیں طلب کیں تھی لیکن ایک ایسی نجی فرم ٹپس (TIPS)کو ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کے ساتھ معائدہ کیا ہے جوکہ 21 مئی کو رجسٹرڈ ہوئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ علی رضا کی من پسند فرم ہےاور یہ وجہ ہے کہ پاکستان میڈیکل کیمشن میں مشترکہ معاہدہ طے کیا ہے۔گزشتہ سال بھی پی ایم سی کے نائب صدر علی رضا نے انٹری ٹیسٹ کے امتحان کے انعقاد کے لیے نمز (NUMS) کو ذمہ داری تھی حالانکہ علی رضا بذات خود نمز یونیورسٹی کے امتحان میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی انکوائری کرتے رہے ہیں ۔ گزشتہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ نمز سے بنوایا تھا جبکہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا انعقاد این ٹی ایس سےکروایا تھا ۔گزشتہ سال کے میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں بھی بے شمار ضابطگیاں بھی سامنے ائیں تھیں جس دن رزلٹ جاری کرنا اس دن پورٹل بھی بیٹھ گیا تھا جبکہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے امتحان کے رزلٹ میں بھی ردوبدل کیا گیاتھاجس کی وجہ سے میڈیکل سٹوڈنٹس نے احتجاج بھی کیا تھا ۔
دوسری جانب پی ایم سی ایکٹ کے مطابق میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا انعقاد کریں گے لیکن اس قانون کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔پی ایم سی خود امتحان کا انعقاد کرنے کی بجائے کسی نجی فرم کو ٹھیکہ دے دیتی ہے۔اب میڈیکل انٹری ٹیسٹ امتحان کے لیے ہر ڈاکٹرز سے چھ ہزاز پانچ فیس وصول کی جائے گی جو کہ مجموعی طور پر ایک ارب 13کروڑ 75لاکھ اکٹھے ہونگے ۔اس معاملے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے جنرل سیکرٹری پروفیسر شاہد ملک کا کہنا ہے کہ فی الفور اس میگا سکینڈل کی نائب تحققیات کرے اور یہ چیک کیا جائے گا کہ ایک پی ایم سی کی جانب سے جاری کردہ اشتہار کے مطابق ایم ڈی کیٹ کا انعقاد کرنے کے لیے کمپنیوں کو دیڈ لائن 10 مئی تھی لیکن جس فرم کو میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے انعقاد کا ٹھیکہ دیا ہے۔ مذکوہ فرم ٹپس (TEPS) ایس ای سی پی کے ساتھ 21 مئی رجسٹرڈ ہوئی ہے یعنی کہ ڈیڈ لائن کے بعد مذکورہ فرم کی رجسٹریشن ہوئی ہے، پروفیسر شاہد ملک کا کہنا تھا کہ پی ایم اے مطالبات کرتی ہے کہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ اور این ایل ای کے امتحانات کو ختم کیا جائے اور پی ایم سی جو ختم کرکے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل تشکیل دی جائے۔

متعلقہ خبریں