پناہ کے زیر انتظام ’’میٹھے مشروبات کے نقصانات پربیداری پیدا کرنے میں خواتین کااہم کردار‘‘کے موضوع پر اہم سیشن کاانعقاد

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)”خواتین کاعالمی دن "کے موقع پرپاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے زیر انتظام "میٹھے مشروبات کے نقصانات پربیداری پیدا کرنے میں خواتین کااہم کردار”کے موضوع پرایک اہم سیشن کاانعقادکیاگیا،جس کی صدارت پناہ کے صدر میجرجنرل (ر) مسعود الرحمن کیانی نے کی، میزبانی کے فرائض پناہ کے جنرل سیکریٹری وڈائریکٹرآپریشن ثناء اللہ گھمن نے سرانجام دیے،اس موقع پران کے ہمراہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین تحسین فواد،روبین غفور،ثمینہ شعیب،روحی ہاشمی،شکیلہ صابر،ڈاکٹرسدرہ،شاہدہ جاوید،سکارڈن لیڈر غلام عباس،سابق کمشنر انکم ٹیکس عبدالحفیظ اورصحافیوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔

پناہ کے صدر میجرجنرل (ر) مسعود الرحمن کیانی نے "خواتین کاعالمی دن "کے موقع پر میٹھے مشروبات کے کثرت سے استعمال سے پیدا ہونے والے امراض،معاشی ومعاشرتی مسائل اوران کی روک تھام کیلئے خاندان کی اہم اکائی خواتین کے کردار کواہم قرار دیتے ہوئے کہاکہ پناہ38سال سے عوام کوصحت مند رکھنے کے لئے آگہی دے رہی ہے،لہذا عوام کوچاہیے کہ صحت مندغذاکاانتخاب کریں،میٹھے مشروبات کااستعمال صحت کی علامت نہیں،بلکہ بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے،این سی ڈیز میں شامل امراض میں سے ایک خطرناک مرض موٹاپاہے،جسے املامراض کہاجاتاہے۔خواتین معاشرہ اورخاندان میں نمایاں فرائض سرانجام دیتی ہیں،میری خواتین سے درخواست ہے کہ بیماریوں اوراس کی وجہ بننے والے عوامل میٹھے مشروبات کوبچوں اورنوجوانوں کی پہنچ سے دوررکھنے میں اپنااہم کرداراداکریں۔

ثناء اللہ گھمن نے کہاکہ دنیا بھر میں 80 کروڑ سے زیادہ لوگ موٹاپے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ موجودہ رجحانات کے پیشِ نظر، ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2025 تک موٹاپے پر طبی اخراجات ایک ٹریلین امریکی ڈالر سے بڑھ جائیں گے۔موٹاپے میں مبتلا افراد، کووڈ 19 کے باعث، ہسپتال میں داخل ہونے کے دگنے خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ ء 2030 تک دنیا میں 25 کروڑ بچے موٹاپے میں مبتلا ہوں گے۔

تحقیق کے مطابق پاکستان میں 41 فیصد بالغ افراد زیادہ وزن رکھتے ہیں یا موٹاپاکاشکار ہیں، کرونا کی وباء کے باعث موٹاپے کی شرح میں پہلے ہی خاطرخواہ اضافہ ہو چکا ہے۔ موٹاپا کئی طرح کی بیماریوں کا موجب ہے، جن میں ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کے امراض، کینسر، جگر اور گردے کی بیماریاں شامل ہیں۔ چینی سے بننے والے مشروبات کا زیادہ استعمال،موٹاپے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

آگہی سیشن میں موجود شرکاء کاکہناتھاکہ حکومت پاکستان کو فوری طور پر جامع پالیسی اپناتے ہوئے، ترجیحی اقدامات کرنے چاہئیں، جن میں ہر طرح کے میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھانا اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز کی پیکنگ پر سامنے کی جانب واضح انتباہی ہدایات کی اشاعت کو لازی قرار دینا شامل ہے۔ موٹاپے سے متعلق ان امور پر رائے عامہ کو باخبر اور فعال کرنے کے لیے ہم سب کومتحرک ہوناہوگا،تاکہ ہم موٹاپاسمیت مہلک امراض سے محفوظ رہیں،اورایک صحت مندمعاشرہ تشکیل پاسکے۔

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے زیر انتظام میٹھے مشروبات کے نقصانات پربیداری پیدا کرنے کے موضوع پرایک اہم سیشن میں شرکاء شریک ہیں
متعلقہ خبریں