لاہور ہائیکورٹ نے لیگی رہنمائوں کے کیسز کی سماعت کرنیوالے ججز کی خدمات واپس لے لیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور سابق صوبائی وزیر رانا ثنا اللہ اور سلمان شہباز کے خلاف کیسز کی سماعت کرنے والے ججز کی خدمات واپس لے لیں۔ہائی کورٹ رجسٹرار کی جانب سے جاری نوٹفکیشن کے مطابق جن ججز کی خدمات واپس لیں ان میں احتساب عدالت کے ججز مشتاق الٰہی اور محمد نعیم ارشد جبکہ انسداد منشیات عدالت کے جج مسعود ارشد شامل ہیں۔خیال رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد نعیم ارشد شہباز شریف رمضان شوگر ملز، مریم نواز چوہدری شوگر ملز، حمزہ شہباز منی لانڈرنگ اور رمضان شوگر ملز، سلمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیسز کی سماعت کررہے تھے جبکہ مسعود ارشد رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی آج سماعت کررہے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کرنے والے جج نے آج سماع کے دوران واٹس ایپ پر احکامات موصول ہونے پر کیس کی مزید سماعت سے انکار کیا۔قبل ازیں انسدادِ منشیات عدالت میں منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ کی مدت ختم ہونے اور ضمانت کے حوالے سے سماعت میں ان کے وکیل ہی دلائل دے سکے تھے۔دریں اثنا انسداد منشیات فورس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ میری گزشتہ رات کی تقرری ہوئی ہے چنانچہ کیس کو پڑھنے کے لیے مجھے کچھ وقت دیا جائے۔جس کے باعث عدالت نے ایک گھنٹے بعد وکیل کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ دے دیا تھا۔تاہم سماعت کے دوبارہ آغاز پر جج مسعود ارشد نے کمرہ عدالت میں بتایا کہ ’مجھے ابھی واٹس ایپ میسج موصول ہوا ہے اور ہائی کورٹ نے مجھے کام کرنے سے روک دیا ہے جبکہ میری خدمات بھی واپس کر دی گئی ہیں‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ رہنما مسلم لیگ (ن) کے خلاف کیس کی مزید سماعت نہیں کرسکتے، ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ یا کسی کا بھی کیس ہوتا میرٹ پر فیصلہ ہونا تھا۔جس پر رانا ثنا اللہ کے وکیل فرہاد علی شاہ نے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں نظر آ گیا ہے کہ اے این ایف کا کیس کتنا مضبوط ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمیں پتا چل گیا تھا کہ سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کیوں دیا گیا۔جس پر جج مسعود ارشد نے کہا کہ میں اللہ کو جواب دہ ہوں اللہ کی رضا کے لیے کام کیا ہے۔جج کی جانب سے مزید سماعت سے انکار پر ردِ عمل دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آج انصاف کا جنازہ نکل گیا اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حکومت اپوزیشن کے خلاف مرضی کے ججز چاہتی ہے۔

متعلقہ خبریں