پاکستان انجینئرنگ کونسل انتخابات ، چیئرمین جاوید سلیم قریشی نے الیکشن کمیٹی کی تعیناتی میں پی ای سی ایکٹ کی دھجیاں اڑا دیں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان انجینئرنگ کونسل کے انتخابات ہونے سے قبل ہی تنازعہ کا شکار ہوگئے، چیئرمین جاوید سلیم قریشی کی جانب سے خلاف ایکٹ مینجمنٹ کمیٹی کا اجلاس بلا کر الیکشن کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی کی سفارش کرنے کا انکشاف، ذرائع کے مطابق چیئرمین جاوید سلیم قریشی نے منیجمنٹ کمیٹی کے ذریعے کئی دوستوں کو الیکشن کمیٹی میں تعینات کرنے کی سفارش کردی، وائس چیئرمین بلوچستان نے اپنے بزنس پارٹنر کو الیکشن کمیٹی میں شامل کرا لیا، پی ای سی ایکٹ کے تحت صرف گورننگ باڈی ہی الیکشن کمیٹی کے ممبران کے ناموں کی سفارش اور تعیناتی کا اختیار رکھتی ہے،الیکشن کمیٹی کا ممبر ہونے کیلئے صوبائی کوٹہ ضروری نہیں، صرف ۲۵ سالہ تجربے کے حامل کسی بھی اچھی شہرت والے انجینئر کو کمیٹٰی کا ممبر بنایا جاسکتا ہے، لیکن چیئرمین جاوید سلیم قریشی نے گورننگ باڈی سے قبل منیجمنٹ کمیٹی کا اجلاس بلایا اور غیر قانونی طور پر صوبوں کے وائس چیئرمینز سے الیکشن کمیٹی کے ممبران کی نامزدگی مانگی، صوبوں کے وائس چیئرمینز نے اپنے دوستوں کو الیکشن کمیٹی میں شامل کروایا، جس سے الیکشن عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے،

چیئرمین جاوید سلیم قریشی ایک بار پھر اپنے دوست لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد اصغر کو چیئرمین الیکشن کمیٹی منتخب کرانے میں کامیاب ہوگئے، لفٹیننٹ جنرل محمد اصغر پر اپوزیشن کی جانب سے گزشتہ الیکشن میں جانبداری کا الزام ہے، الیکشن میں حصہ لینے والے دیگر پینلز کا الزام ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل محمد اصغر نے گزشتہ الیکشن میں چیئرمین جاوید سلیم قریشی کے خلاف انتخابی عذر داری نمٹانے بغیر ان کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے تھے، اس بار کیونکہ جاوید سلیم قریشی خود الیکشن نہیں لڑ رہے اس لیے وہ اپنے پینل کو جتوانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں اور اپنے اختیارات کا استعمال کرکے الیکشن عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں، پاکستان انجینئرنگ کونسل کے الیکشن یکم اگست کو ہونگے جس میں تین لاکھ سے زائد انجینئرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، چیئرمین پی ای سی جاوید سلیم قریشی کا کہنا ہے کہ صوبوں کے وائس چیئرمینز کی جانب سے الیکشن کمیٹی کے ممبران کی سفارش ضروری ہے، گورننگ باڈی منیجمنٹ کمیٹی کی سفارش پر الیکشن کمیٹی کے ممبران کا تقرر کرتی ہے، الیکشن نادرا نے کروانے ہیں اس لیے دھاندلی کا تاثر غلط ہے۔

متعلقہ خبریں