وزارت سائنس کا انوکھا کارنامہ، شبلی فراز کے حکم پر 5 سال قبل ریٹائرڈ گریڈ 20 کے دو افسران عہدوں پر بحال

اسلام آباد (فیصل اظفر علوی) وزارت سائنس کا انوکھا کارنامہ، ریٹائرڈ افسران 5 سال بعد بحال کردیئے ، کرپشن اور ریکارڈ ٹیمپرنگ پر برطرف گریڈ 20 کے افسران حیدرزمان خٹک اور ڈاکٹر حفیظ اللہ کی بحالی میں رولز کی دھجیاں اڑا دی گئیں، تفصیلات کے مطابق وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے کرپشن اور ریکارڈ ٹیمپرنگ میں ملوث گریڈ 20 کے دو افسران کو 5 سال بعد عہدوں پر بحال کردیا ہے، دونوں افسران کی بحالی وفاقی وزرا پرویز خٹک اور سینیٹر شبلی فراز کے دباو پر کی گئی، دونوں افسران کی بحالی میں رولز کی دھجیاں اڑا دی گئیں، پاکستان سائنس فاونڈیشن کا بورڈ نامکمل ہونے کے باوجود اجلاس بلا کر دونوں افسران کو بحال کیا گیا،

ذرائع کے مطابق پاکستان سائنس فاونڈیشن کا بورڈ نا مکمل ہے، بورڈ کے 18 ممبران میں سے 9 موجود ہیں جبکہ دیگر ممبران کا تقرر ہونا باقی ہے، دونوں افسران حیدرزمان خٹک اور ڈاکٹر حفیظ اللہ وزیر دفاع پرویز خٹک کے قریبی ہیں، پرویز خٹک کے کہنے پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے سائنس فاونڈیشن پر دباو ڈالا، چیئرمین سائنس فاونڈیشن نے نہ صرف غیر قانونی طور پر سائنس فاونڈیشن کے نامکمل بورڈ کا اجلاس بلایا بلکہ احکامات نہ ماننے والے پی ایس ایف کے دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا، چیئرمین سائنس فاونڈیشن ڈاکٹر شاہد نے سیکرٹری سائنس فاونڈیشن رضی الحسن اور سینئر سائنٹفک آفیسر فیصل افتخار کو پچھلی تاریخ سے عہدوں سے ہٹایا، رضی الحسن اور فیصل افتخار کو چھٹی کے روز ہفتہ 12 جون کو عہدے سے ہٹایا گیا، لیکن ان کے تبادلوں پر جمعہ 11 جون کی تاریخ درج ہے، دستاویز کے مطابق دونوں کرپٹ افسران کی مطابق افسران کی بحالی کیلئے سمری 18 مئی کو وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز کو بھیجی گئی، جس پر وفاقی وزیر نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ سائنس فاونڈیشن کا بورڈ نامکمل ہے کا بورڈ کا اجلاس دو ہفتے کے اندر بلا کر معاملہ نمٹانے کا نوٹ لکھا، ذرائع کے مطابق بورڈ اجلاس کے دوران ایک بورڈ ممبر نے دونوں افسران کی غیرقانونی بحالی پر اعتاض اٹھایا اور اجلاس سے واک آوٹ کرگئے، دستاویز کے مطابق پاکستان سائنس فاونڈیشن کے بورڈ نے کرپٹ افسران حیدرزمان خٹک اور ڈاکٹر حفیظ اللہ کی بحالی میں عدالتی احکامات کو بھی نظر انداز کردیا،

گریڈ بیس کے حیدرزمان خٹک اور ڈاکٹر حفیظ اللہ کو 2016 میں الزامات ثابت ہونے پر جبری ریٹائرڈ کیا گیا تھا، دونوں کو محکمانہ انکوائری کے بعد سائنس فاؤنڈیشن کے بورڈ نے جبری ریٹائرڈ کیا تھا، برطرفی کے بعد دونوں افسران نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی دونوں کرپٹ افسران کی برطرفی برقرار رکھی تھی دونوں افسران نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، تاہم دونوں نے بعد میں سپریم کورٹ سے بحالی کیلئے دائر درخواست واپس لے لی تھی، دستاویز کے مطابق وزارت سائنس کی جانب سے کرپٹ افسران کی بحالی کا فیصلہ دوسری بار کیا گیا ہے ،دسمبر 2018 میں بھی دونوں جبری ریٹائرڈ افسران کو خلاف ضابطہ بحال کیا گیا تھا ، تاہم میڈیا پر خبر سامنے آنے کے بعد سیکرٹری سائنس یاسمین مسعود نے تحقیقات کے بعد کرپٹ افسران کی بحالی کے احکامات واپس لیے تھے، حیدر زمان خٹک اور ڈاکٹر حفیظ اللہ نے سیکرٹری یاسمین مسعود کی طرف سے بحالی کے احکامات واپس لینے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، عدالت نے بحالی کے احکامات روکنے کے فیصلے کو بھی درست قرار دیا، وزارت کے کرپٹ افسران نے فرضی انکوائری کمیٹی بنا کر دونوں کرپٹ افسران کی بحالی کی سفارش کی۔

متعلقہ خبریں